Home / شمارہ نومبر 2017 / توضیح القرآن قسط ۱

توضیح القرآن قسط ۱

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تعارف سورہ فاتحہ

سورۃ الفاتحہ قرآن مجید کی پہلی سورت ہے اور نزول کے اعتبار سے یہ نبوت کے ابتدائی دور کی پہلی مکمل سورت ہے۔ اس سے قبل متفق آیات کا نزول ہورہا تھا،  یعنی  ترتیب اور تنزیل  دونوں اعتبار سے اسے  اولیت کا شرف حاصل ہے۔ اس سورہ کی حیثیت قرآن مجید کے پیش لفظ (Preface) کی ہے  اور اپنے عجیب اور کثیر فضائل و برکات کی بنا پر احادیث میں  اس سورۃ کے کئی صفاتی نام نام وارد ہوئے ہیں جن میں ام القرآن ،دعا، ہدایت، نور ،  شفا اور کنز بھی شامل ہے۔یہ سبھی نام درحقیقت اس سورہ مبارکہ کے علمی، نظریاتی ، دنیاوی اور روحانی خصائص کے طرف اشارہ کرتے ہیں۔

روحانی و نفسیاتی اعتبار سے  اس سورہ کی اہمیت اس کے نام الشفا سے بھی بالکل واضح ہے۔ احادیث مبارکہ شاہد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورہ پڑھ کر  کئی جسمانی امراض کا علاج بھی کیا کرتے تھے ۔ یہ علاج محض الفاظ سے نہیں بلکہ روحانی قوت کے ساتھ کیا جاتا ہے  جیسے آج بھی موثر دم درود کا رواج ہے۔ اسی طرح قدیم تہذیبوں سے لے کر آج تک ریکی یا دیگر روحانی طریق ِ علاج میں کیا جاتا ہے اور ان کی تاثیر بھی مانی جاتی  ہیں ۔ چنانچہ الفاظ یا روحانی قوت سے  علاج کوئی بعید از فہم بات نہیں بلکہ ہر دور میں رائج رہا ہے۔ سورہ الفاتحہ کا اس ضمن میں یہ اعجاز ہے کہ اس کے الٰہی الفاظ کی بدولت اس کی تاثیر میں  یقین کی کیفیت دوبالا ہوجاتی ہے۔

 نظریاتی اعتبار سے غور کریں تو یہ سورہ اپنی حقیقت میں دراصل ایک اسے سلیم الفطرت انسان کی پکار ہے جو اپنے شعور کی آنکھ کھول کر اپنے ماحول کا مشاہدہ کرتا ہے۔ وہ اپنے ماحول سے حقائق اخذ کرتا ہے، وہ ایک ہستی کے آگے سراپا سپاس بن کر کچھ امید باندھتا ہے اور زندگی کے ایک بہتر لائحہ عمل کے لیے کوشاں ہوتا ہے۔ یہ سورت اسی ترتیب سے فطرت کی پکار کو سامنے رکھتی ہے جو انسان پر طاری ہونی چاہیے۔ یہ  سورت بتاتی ہے کہ  کس طرح انسانی فطرت  غور و مشاہدے سے ازخود کائنات کے تین بنیادی حقائق تک پہنچ سکتا ہے۔

۱۔ وجود باری تعالیٰ               ۲۔ آخرت                     ۳۔ وحی و ہدایت

سورۃ فاتحہ میں بالترتیب  ان تینوں نظریاتی حقائق کو منطقی اعتبار سے آگے بڑھایا گیا ہے اور اس کے ساتھ عملی اعتبار سے بھی عبادت  ، زندگی کا لائحہ عمل اور  مذہبی فکر کا معاملہ جامعیت کے ساتھ زیر بحث لایا گیا ہے جس کا تجزیہ ہم انھی  آیات  کے تحت آئندہ  شماروں    میں کریں گے۔تاہم قرآن مجید کے مقدمے میں  یہ بنیادی تصورات اٹھانے کا مقصد یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تمام مذاہب درحقیقت انھی تصورات پر اپنی فکر کا محل تعمیر کرتے ہیں اور یہی  وہ موضوعات ہیں جن کے بارے میں ہمیشہ ہی ہادیانِ مذاہب نے اصلاح و درستگی  کی کاوش کی ہے۔ اگر یہ بنیادی تصورات   یعنی خدا، عبودیت، وحی، آخرت اور مذہبی فکر کی درستگی ہوجائے تو انسان  کے لیے ہر قسم کی علمی، فکری  اور عملی بہکاووں کے  امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔

 آخر میں ایک اہم  پہلو اس سورہ  پاک کا فصیح و بلیغ دعائیہ اسلوب بھی ہے۔ یہودیت، عیسائیت، بدھ مت، ہندومت، زرتشت مت اور تمام مذاہب میں ہمیں جہاں اساطیری روایات، دیوتاؤں کی ثناخوانی اور تاریخی واقعات کی تفصیل ملتی ہے وہیں ان کتب مقدسہ میں کچھ ایسی منفرد نظمیں (hymns) بھی ملتی ہیں جن میں احساسِ بندگی کا والہانہ اظہار یا انسانی فکر کی کمال بلندی دکھائی دیتی ہے۔ سیدنا داؤد کی زبور ، ویدوں کا گائتری منتر، انجیل کا پہاڑی وعظ یا پھر بدھ کا بنارس اپدیش، ہر ایک صحیفے مذہبی ادب کی کچھ ایسی عالیشان اور لازوال نظیر مل جاتی ہیں جو ایک آفاقی سرچشمہ ہدایت کا پتہ دیتی ہے۔ ان سب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن ان کے غیرجانبدارانہ تقابل سے واضح ہوجاتا ہے کہ سورہ ان سبھی مناجات میں سب سے منفرد، نمایاں اور بے مثال شاہکار ہے۔ کوئی بھی مناجات اس قدر جامع، مربوط اور من و یزداں کے باہمی تعلق پر اس طرح محیط نہیں ہے جس طرح سورہ الفاتحہ انسان اور خدا کے رشتے کو بیان کرتی ہے۔

ان  بے پناہ خصوصیات  کی بدولت بلا شبہ سورہ فاتحہ قرآن مجید بلکہ مذہبی ادب کی تمام تر تاریخ میں ایک امتیازی حیثیت کی حامل ہے۔  اس موقع ہمیں موطا امام مالک کی وہ روایت بھی یاد آتی ہے جب اللہ کے رسول محمد صلی اللہ  علیہ وسلم نے  ابی بن کعب ؓ سے  ارشاد فرمایا  کہ میں تمہیں سورت نہ بتاؤں جو نہ تورات میں ہے نہ زبور میں اور نہ انجیل میں۔ صحابی کے اشتیاق پر آپ نے  فرمایا کہ یہ سورہ فاتحہ  ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تورات میں، انجیل میں، زبور میں حتیٰ کہ قرآن اس جیسی کوئی دوسری سورت نازل نہیں ہوئی ہے۔

About حافظ محمد شارق

One comment

  1. ماشاء، بہترین وضاحت کی ہے۔تمام تفاسیر سے ہٹ کر ایک نیے انداز میں مذاہب کی رو سے۔
    اللہ تعالیٰ علم وعمل میں اضافہ فرمائیں آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *