Home / اداریہ / اداریہ

اداریہ

السلام علیکم،

اسرا میگزین کے مدیر کی حیثیت سے یہ میرا پہلا اداریہ ہے۔ اسرا میگزین   کا آغاز دو برس قبل ہوا تھا اور اس وقت اس کا نام المبشر میگزین رکھا گیا تھا۔ بعد میں یہ نام تبدیل کرکے اسرا میگزین یا اسرا میگ کردیا گیا۔اس میگزین کے اشاعت پر کئی سوالات  پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ  جب پہلے ہی  اتنی بڑی تعداد میں دینی اور سماجی موضوعات  پر میگزین جاری ہوتے ہیں تو اسرا میگ جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ نیز اس وقت فیس بک  اور سوشل میڈیا پر ہر قسم کے مضامین کی بھرمار ہے تو اسرا میگ کیا تیر مارلے گا؟کہیں یہ رسالہ بھی کسی  مخصوص مسلک کی ترویج  و اشاعت کے لیے مختص  تونہیں؟ کہیں اس کا مقصد کسی خاص شخصیت یا شخصیات کی تحریروں  کو فروغ دینا تو نہیں؟آخر اس رسالے میں وہ کیا خاص بات ہے جو دیگر رسالوں میں نہیں؟

یہ  وہ چند سوالات ہیں جن کی بنا پر نئے پڑھنے والے اس قسم کے کسی بھی رسالے  کے بارے میں منفی تاثر قائم کرتے اور  پڑھنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم اس اداریے میں انہی سوالات کو ایڈریس کریں گے اور وہ وجوہات بتائیں گے جن کی بنا پر یہ رسالہ نہ صرف دوسال قبل جاری ہوا بلکہ بلاتعطل آج تک جاری و ساری ہے۔

ہماری سوسائٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم  چاہتے نہ چاہتے ہوئے  بھی شخصیت پرستی کا شکا رہوجاتے ہیں۔ اگر ایک معمولی سی بات کسی  معروف شخص کے نام سے کوٹ کی جائے تو اس پر بہت واہ واہ ہوتی ہے ۔ دوسری جانب ایک  بہت ہی پرمغز بات  کسی  غیر معروف شخص کے نام سے لکھی ہو تو کوئی اسے نہیں دیکھتا۔ اسرا میگ کا پہلا مقصد اس شخصیت پرستی کو توڑنا تھا۔ چنانچہ دو سال قبل اسرا میں لکھنےوالے زیادہ تر وہ لوگ تھے جو نئے لکھاری تھے اور نسبتا اتنے معروف نہیں تھے۔اس کا مقصد پڑھنے والوں کوکسی بڑے  نام نہیں بلکہ ان کی تحریر کے اثر میں لانا تھا ۔الحمد للہ ، دو سالوں میں یہ مقصد بہت اچھی طرح پورا ہوا۔ اس عرصے میں  رسالے  کی ویب سائٹ پر بلامبالغہ ماہانہ  بنیادوں پر  ہزاروں کی تعداد میں وزٹس ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر بھی اس کے پڑھنے والوں کا فیڈ بیک بہت اچھا رہا۔ اس  طرح  اس رسالے نے ایک ٹرینڈ سیٹ کیا کہ اگر تحریر کا پیغام اچھا ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لکھنے والا کون ہے؟

اس رسالے کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ نئے لکھنے والوں کو تحریر کی باریکیوں سے آشنا کیا جائے۔ انہیں  اعلی خیال پیدا کرنے، خیال کو الفاظ میں کوڈ کرنے، ان الفاظ کو جملوں ، پیرگراف اور آخر میں منظم مضمون کی شکل میں اس طرح ڈھالنے کی تربیت دی جائے کہ مخاطب تک وہ بات اچھی طرح پہنچ جائے۔ ان دوسالوں میں اس رسالے نے الحمدللہ بخوبی اپنا یہ مقصد بھی حاصل کیا۔ اس وقت بہت سےسوشل میڈیا کے  لکھاری ایسے  ہیں جنہوں نے  اسرا میگ ہی سے اپنے قلمی سفر کا آغاز کیا یا اس سے کسی نہ کسی درجے میں مدد لی۔

اس ماضی کی  کارکردگی کے بعد اگر ہم  دیگر منفرد خصوصیات کا ذکر کریں تو اسرا میگ اردو رسالوں  میں موجود ان خلاؤں   کو پر کرنا چاہتا ہے جو بعض وجوہات کی بنا پر پیدا ہوگئے ہیں ۔ اکثر موجودہ رسالے یا تو سماجی موضوعات کو ایڈریس کرتے ہیں  یا پھر خالصتا مذہبی مضامین بیان کرتے ہیں۔اسی طرح اکثر رسالے معلومات کا انبار تو مہیا کردیتے ہیں  لیکن ان  تعلیمات پر عمل  پیرا ہونے  کا کوئی لائحہ عمل نہیں بتاتے ۔  اسرا میگ کا مقصد  سماجی اور مذہبی دونوں میدانوں میں  سنجیدہ اور دلچسپ اسلوب میں لوگوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی فراہم کرنا ہے۔ یعنی اسرا میگ صرف یہی نہیں بتاتا کہ غیبت کیا ہے؟ ڈپریشن کسے کہتے ہیں؟ بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟ اور یہ معاملہ صرف رسالے تک ہی محدود نہیں بلکہ اسرا کاادارہ اس سے آگے بڑھ کر اپنے محدود وسائل میں کاؤنسلنگ کی خدمات بھی آفر کرتا ہے۔

ایک اور مقصد فرقہ ورانہ تعصب سے بالاتر ہوکر دین کی فکر کو واضح کرنا ہے۔ اکثر جدید رسالے یہی دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ فرقہ ورانہ تعصب سے بالاتر ہوکر تعلیم دیتے ہیں لیکن عملا ایسا دکھائی نہیں دیتا۔ ہرمذہبی رسالے کی پشت  پر کوئی نہ کوئی قدیم یا جدید مسلک  یا فرقہ ہوتا ہے۔ چنانچہ جب بھی ان سے کوئی  دینی مسئلہ پوچھا جاتا ہے تو بجائے اس کے وہ دیگر مسالک کی رائے بھی دیانت داری سے بتاکر مخاطب پر فیصلہ چھوڑ دیں،  وہ اپنے ہی مسالک  کی فکر سراپا حق سمجھتے ہوئے    بیان کردیتے ہیں۔ اس کے برعکس اسرا میگ کا  مقصد کسی فقہی سوال کے جواب میں مختلف آرا کو دلیل سے  بیان کردینا ہوتا ہے اور یہی تعلیم کا مقصد ہے کہ وہ بلاتفریق نیوٹن ، آئن اسٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ کی آرا کو دلائل کے ساتھ  بیان کردے اور فیصلہ مخاطب پر چھوڑ دے  ۔

اسرا میگ کا ایک اور مقصد  شخصیات کی بجائے اداروں کو فروغ دینا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی جس شخص نے بنائی آج وہ شخص نہ دنیا میں ہے اور نہ ہی اس کا نام زندہ ہے۔ لیکن ادارہ زندہ ہے۔ شخصیت کی زندگی عارضی ہوتی ہے لیکن ادارے ہزاروں سال زندہ رہتے ہیں۔پیغمبر کے علاوہ باقی  شخصیات  کی تعلیمات  وقت اور علاقے کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہیں ، لیکن ادارہ اس تبدیلی کو اپنے اندر سمونے کی اہلیت رکھتا ہے۔ شخصیت کی شہرت عارضی ہوتی ہے،مضبوط ادارے کی حیثیت  غیر عارضی۔ شخصیت کے گرد گھونے والی فکر میں جذباتیت اور عقیدت ہوتی ہے جبکہ اداروں کی گرد گھومنے والی  فکر میں عقل وفہم ہوتا ہے۔ شخصیت  پرستی  جلد یا بدیر تعصب کو جنم دیتی ہے اورحقیقی  ادارے تعصب سے بالاتر ہوتے  ہیں۔ اسرا میگ کسی ایک فرد  کے گرد گھومنے والا رسالہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک اسرا نامی ایک ادارہ ہے جس میں کوئی ایک شخصیت نہیں بلکہ شخصیات ہیں جو ایک وژن اور مشن کے تحت کام کررہی ہیں۔ شخصیات آتی اور جاتی رہتی ہیں لیکن ادارہ قائم و دائم رہتا ہے۔

اسرا کے مقاصد کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو یہ یوں بنتا ہے۔

مذہب و سوشل سائنسز کی تعلیم کے ساتھ ساتھ  اس کی تربیت  فراہم کرنا، جس کا مقصد کسی خاص شخصیت ، مسلک یا فرد کی اجارہ داری قائم کیے بنا  اللہ کی رضا کے لیے اپنی،   فردکی  اور معاشرے کی اصلاح  کرنا ہے۔

اس پر ایک سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ ایک چھوٹا سا آن لائن رسالہ سوسائٹی میں کیا تبدیلی کر لے گا۔ بات بالکل درست ہے ۔ لیکن تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا جو فریضہ ہم پر عائد ہوتا اس میں اصل حکم  لوگوں کو بدلنا نہیں بلکہ بدلنے کی کوشش کرنا ہے۔ اسی بات کو  سورہ اعراف میں  بہت عمدگی سے واضح کردیا گیا ہے:

اور ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھئے جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ وہ لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے۔ ہفتہ کے دن تو مچھلیاں بلند ہوہو کر پانی پر ظاہر ہوتی تھیں اور ہفتہ کے علاوہ باقی دنوں میں غائب رہتی تھیں۔ اسی طرح ہم نے انہیں ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے آزمائش میں ڈال رکھا تھا۔ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ان میں سے کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا : ”تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے؟” تو انہوں نے جواب دیا: اس لیے کہ ہم تمہارے پروردگار کے ہاں معذرت [پیش] کرسکیں اور اس لئے بھی کہ شاید وہ نافرمانی سے بچ  جائیں ۔ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو (بالکل ہی) فراموش کر دیا جو انہیں کی جارہی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور ان لوگوں کو جو ظالم  تھے، ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے بہت برے عذاب میں پکڑ لیا۔ پھر جب وہ سرکشی کرتے ہوئے وہی کام کرتے رہے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے انہیں حکم دیا کہ: ”ذلیل و خوار بندر بن جاؤ“۔ (الاعراف ۔ ۷: ۱۶۶-۱۶۳ )

ان آیات میں تین گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ جو نافرمانی کررہے تھے، دوسرے وہ جو اس سے بچے ہوئے تھے لیکن نافرمانی کرنے والوں کو ٹوکتے بھی نہیں تھے اور تیسرے وہ جو خود بھی بچے ہوئے تھے اور دوسروں کو بھی بچنے کی نصیحت حکمت کے ساتھ  کرتے تھے۔ جب اس نافرمانی پر عذاب آیاتو  صرف ان لوگوں ہی کو بچایا گیا جو اس جرم سے خود بھی بچتے تھے اور دوسروں کو بھی نصیحت کرتے تھے ، حالانکہ انہیں علم تھا کہ ان کی نصیحت اس بگڑے ہوئے معاشرے پر زیادہ کارگر نہیں ہوگی۔

تو ہم بھی اپنے پروردگار کے حضور یہ عذر پیش کرناچاہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے وسائل کے مطابق خود کو بھی بچایا اور دوسروں کو بھی نصیحت کی۔ ہمارازور بس خود پر تھا اور دوسروں کو تو ہم صرف بتاسکتے تھے اور ان کو بچانے کے لیے  تعلیم و تربیت کا انتظام ہی کرسکتے تھے۔ بس جس طرح ہم نے خود کو اور دوسروں کو بچانے کی کوشش کی تو آپ بھی ہمیں اس بڑے دن کے عذاب سے بچالیں جب نگاہیں الٹ جائیں گی۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہم ان تمام مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ آمین

About ڈاکٹر محمد عقیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *