Home / شمارہ اپریل 2017 / _____تم چاہ بھی نہیں سکتے اگر اﷲ نہ چاہے

_____تم چاہ بھی نہیں سکتے اگر اﷲ نہ چاہے

بے شک ___ لیکن اکثر خود کو اس جملے کے پڑھنے کے بعد مطمئین نہی بہت بےچین اور مضطرب پایا!!! ____ وجہ ؟؟__ دل میں ہزار اٹھتے وسوسے اور سوالات کے جب سب کچھ رب العزت کے ہی چاہنے سے ہوتا ہے اور خصوصاً میرا ہر ہر عمل حتیٰ کہ چاہنا بھی اس وقت تک ممکن نہی جب تک کے ﷲ پاک ہی نا چاہئے۔

تو پھر میں کس طرح کی اشرف المخلوق ہوں یا کس طرح مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں جو بھی اپنے اختیار سے کرتی ہوں وہ ﷲ پاک ہی کا حکم ہوتا ہے تو پھر جنت یا جھنم سزا و جزا کیسی!!!!!!؟ _____  یا تو مجھے جنت ملے کہ سب کچھ ﷲ پاک کا ہی پلان ہے یا پھر سب کچھ میرا میری موت کے ساتھ ختم ہوجائے ۔ یعنی پیدا ہوئی اپنے سارے کام کاج کئے اور مرگئی۔ یقین جانئے اس وقت اگر یہ سب پڑھ کر آپ مجھ سے بدگمان ہورہے ہیں تو میرا کام آپ کی بدگمانی دور کرنا ہے____ تو کیا ﷲ رب العزت اپنے بندے کو گناہ عظیم میں غلطاں چھوڑدیگا۔ اور بدگمان رکھ کر کیا مجھے جہنم رسید کرے گا۔ نہی ہرگز ہرگز نہی۔ میرے رب نے میرے گمان کے مطابق ہی کیا اس نے مجھے سوجھایا کہ جس طرح ایک پروگرامر پروگرام میں آپشنز لگاتا ہے تاکہ یوزر سلیکٹ کرسکے یا اسکو کون بنے گا کروڑ پتی سے سمجھ لیں کہ ایک سوال کا درست جواب آپشن A ,B ,C ,D میں دیا ہوا ہے اور ہم اپنی معلومات کی حد تک ان چار میں سے ایک آپشن چوز کرلیتے ہیں۔ اور نتیجہ اسی حساب سے آتا ہے جب کہ میزبان جواب پہلے سے کارڈ پر درج ہونے کی سبب جانتا ہے۔ لیکن مدد نہی کرتا۔ سوائے مدد مانگنے پر کبھی فون آ فرینڈ کے زریعے دوست سے مدد دلاکر ۔ کبھی سوال ہی سوئچ کروادیتا ہے یعنی بدل دیتا ہے تو کبھی ففٹی ففٹی میں سے دو غلط نکال دیتا ہے خصوصاً اسکا غلط جواب۔ اور یہ مدد کی آخری حد ہوتی ہے کہ اب دو آپشن ہیں ایک صحیح دوسرا غلط۔ اسی طرح ہم اپنا اختیار اور علم استعمال کرتے ہوئے نتیجہ حاصل کرتے ہیں۔

 اس سے مجھے یہ احساس ہوا کہ ہم کو بھی تو زندگی میں یہی چار آپشنز ملتے ہیں ۔ اور اس درست کو پانے کے لئے تین لائف لائین۔ نمبر ایک کسی دوست سے مشکل میں مشورہ۔ نمبر دو مشکلات اور معملات بگڑنے کی صورت اس کام سے ہی کوئٹ یا سوئچ کرجانا۔ اور نمبر تین ففٹی ففٹی یعنی ” ان شاءﷲ ” اس سے اب ﷲ پاک ساتھ ہوگیا اور اب وہ ایک غلط اور صحیح چھوڑ کر باقی کے غلط یا مشکلات ہٹادیتا ہے۔ اور تب ہم اپنی عقل و علم اور اختیار استعمال کرکے نتیجہ پالیتے ہیں۔ تو وللہ اسمیں تو میرا ہی اختیار استعمال ہورہا ہے ﷲ پاک کا علم اپنی جگہ ۔ لیکن یہ جو باتیں فلاسفر یا بڑے دیندار یا ﷲ جانے دکانداروں نے بنالی ہیں جو ہم قرآن و حدیث کی طرح کوڈ کررہے ہوتے ہیں ” کہ تم چاہ بھی نہی سکتے اگر اﷲ نہ چاہئے ” تو ان سب باتوں سے ایمان خراب ہوتے ہیں وسواس آتے ہیں تب منہ بھی بکواس اور پھر مغلظات بکنا شروع ہوجاتا ہے۔ ملحدین پیدائشی ملحد نہی یہ سب بھی اسی طرح کی خرافات پڑھ کر آؤٹ ہوئے ہیں اور اب قرآن ﷲ و رسول کی ذات پر تبرہ کررہے ہیں۔ یاد رکھیں جس میں ایمان کی رمق ہو وہ عمر یا خالد بن ولید رضیﷲ عنہما کی طرح ہے اور جو کھوکھلا ہے وہ ابو جہل ہے۔

About سعدیہ کامران

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *