Home / اسرا بلاگ / مسلم نشاۃ ثانیہ کا لائحہ عمل؟

مسلم نشاۃ ثانیہ کا لائحہ عمل؟

حافظ محمد شارق

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ملت اسلامیہ کی تاریخ ایک تابناک اور شاندار ماضی کی حامل رہی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں نے اپنی حیثیت منوائی ہے۔ نہ صرف تاریخ کی کتابیں اس حقیقت کی گواہ ہیں بلکہ بیگانے بھی اس حقیقت کے معترف ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ میں ایک دور ایسا گذرا ہے جب دنیا کی سیاسی ، اخلاقی ، سماجی اور تہذیبی قیادت ان کے ہاتھ میں تھی ۔ مسلمانان ِعالم ترقی کی اُس حد تک پہنچ گئے جس کی بلندی تاریخ بھی مکمل بیان کرنے سے قاصر ہے۔ مسلمانوں کے ہاتھ علم کی وہ شمع تھی جس سے راہ پاتے ہوئے انہوں نے ساری دنیا کو منور کیااور صدیوں تک دنیا پر حکومت کرتے رہے ۔ کسی قوم کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ وہ مسلمانوں سے ٹکڑائے۔ علم کے میدان میں ، جنگ کے میدان میں، مہارت و ہنر کے میدان میں، غرضکہ زندگی کے ہر شعبے میں کارنامے انجام دیے۔ لیکن پھر حالات نے کچھ اس طرح کروٹ بدلی کہ یہ سب ان کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ آسمان کو چھُوتا ہوا عروج زوال سے آشنا ہوا ۔ اور قیادت مسلمانوں کے گھر سے ایسی نکلی کہ پھر کبھی لوٹ کر نہیں آسکی۔اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ مسلمان ہر جگہ رسوا ہیں اور قیادت کرنے والی امت محکوم و مغلوب ہر کر رہ گئی ہے ۔قرآن مجید میں اﷲ عزوجل کا وعدہ ہے کہ اگر ہم ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں تو اﷲ ہمیں عزت و وقار اور زمین کی خلافت عطا فرمائیں ۔ لیکن مسلمان جو اب بھی ایمان رکھتے ہیں‘ کافی تعداد میں نماز، روزہ ، حج و زکوٰۃ ادا کرتے ہیں؛ اس کے باوجود حال یہ ہے کہ نہ خلافت حاصل ہے نہ دین کومستحکم کرنے کی کوئی صورت۔ نہ عزت و وقار حاصل ہے نہ کامرانی! نہ دین کو تمکن نصیب ہے نہ دشمنوں کو مرعوب کرنے کو کوئی ذریعہ ۔ہر جانب پستی ہی پستی ہے ۔ خدا وعدہ خلافی نہیں کرتا تو باجود اپنے ایمان پر قائم رہنے کے ہم مسلسل پستی کی جانب کیوں چلے جارہے ہیں؟ ہمیں خلافت و وقار کیوں حاصل نہیں؟

بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس

کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات(اقبال)

اس وقت مغرب دنیا کی امامت کر رہا ہے اور اس کی حکمرانی بالواسطہ ساری دنیا پر شان و شوکت کے ساتھ قائم ہے۔ مغرب کی یہ شان و شوکت اور تہذیبی قیادت اچانک نمودار نہیں ہوئی، بلکہ اس کے پیچھے صدیوں کی جدوجہد اور ایک ایسی ہمہ گیر علمی تحریک ہے جس نے اس پورے سفر میں ذہنی، فکری، مادی ، علمی ہر لحاظ سے زندگی کے ہر شعبے پر مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے غور و فکر کرکے نتائج حاصل کیے ہیں۔ ہمیں بھی کسی شارٹ کٹ کی تلاش کے بجائے حکمت اور دانش مندی کے ساتھ لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔اس میں وقت ضرور لگے گا، لیکن یہ عروج مستحکم اور پائیدار ہوگا ۔

اسباب ِ زوال کے تعین میں سب سے سنگین غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے اس اجتماعی رُسوائی کا سارا ملبہ سیاسی اقتدار کی پامالی پر ڈال دیا اور نتیجتاً دین کی وہ سیاسی تعبیر سامنے آئی جس کا پورا مقصد و محور سیاسی اقتدار کا حصول بن گیا ۔بلکہ انبیاء کا بعیثت کا مقصد بھی اس تعبیر کے تحت یہی قرار پایا کہ انبیاء حکومتِ الٰہیہ قائم کریں۔ اصولی طور پر یہ بات بالکل درست ہے کہ سیاسی اقتدار دعوتِ حق کی تلقین‘ اصلاح انسانیت ‘ متوازن معاشرت اور عبادات الٰہی انجام دینے کے لیے بہترین موقع فراہم کرنے کا ناگزیر ذریعہ ہے۔مگریہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی اقتدار اسلام کا قطعی مقصود نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے زوال کا سبب سیاسی مغلوبیت ہے۔اگر سیاسی اقتدار ہی مسلمانوں کے عروج کاپیش خیمہ ہوتی تو آج کتنے ہی آزاد مسلم ممالک امت کو عہدِ خلافت راشدہ کی یاد دلا دیتے۔اگر مسئلہ اسلامی قوانین اور حدود و تعزیزات کا نفاذ ہوتا تو سعودیہ عرب آج ایک مثالی سلطنت ہوتی۔ بیسوی صدی میں ان تحریکوں کا آغاز ہوا تو امید تھی کہ مسلم ممالک کا پھیلتا ہوا آزادانہ سلسلہ مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوا وقار واپس دلا دے گا، مجموعی طور پر یہ امت کے نوجوان احساس کمتری کی کیفیت سے باہر آئے، جس کا سہرا انھی تحریکوں کا جاتا ہے ، لیکن کم و بیش ایک صدی برسرعمل رہنے کے بعد بھی کسی کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی ہے۔ ان تحریکوں کی یہ ناکامی اس بات پر دلیل ہیں کہ اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کا خواب سیاسی جدوجہد سے نہیں بلکہ علم و تہذیب کی جدوجہد سے ہوگا۔تاریخ واشگاف انداز میں شہادت دیتی ہے کہ الحادی فکر جو آج مغرب کی نمائدہ اور اُس تہذیب کی اصل روح رواں ہے، محض چند صدیوں پہلے پورے سماج میں سب سے زیادہ معتوب تھی۔ جو فکر آج دنیا پر راج کر رہی ہے سولہویں صدی تک وہ کمزور اور مظوم ترین فکر تھی۔ ان کے پاس نہ ہی قیادت تھی نہ ہی اپنے غلبے کا کوئی سامان۔انھوں نے علم کی دنیا سے اپنے عروج اور غلبے کا راستہ بنایا اور چند نسلوں میں ہی پانسہ پلٹ کر ان کے حق میں ٹھہر گیا۔ ہمیں بھی بڑی سنجیدگی کے ساتھ یہ مان لینا چاہیے کہ ہمارے درد کا حل سیاسی غلبے کے بجائے ایمان و اخلاق اور علمی و دانش کی دنیامیں موثر لائحہ عمل ہے۔ہم تاریخ کو دیکھتے ہوئے بھی کیوں اس بات کو ماننے سے قاصر ہیں کہ آج مغرب کے ہاتھ میں دنیا کی زمامِ اقتدار ہے تو اس کی وجہ ان کا سیاسی غلبہ نہیں بلکہ وہ علمی نشاۃِ ثانیہ ہے جس کی بنیاد انھوں نے پندرہویں صدی میں رکھی تھی۔

نیا تعلیمی نظام

تاریخی اعتبار سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ زوال کا اصل سبب مسلمانوں کی علم سے وہ بے توجہی ہے، جو سولہویں صدی کے بعد ان کے ذہنوں میں پیدا ہوگئی تھی اور وہ علم سے بے زار نظر آنے لگے تھے۔ مسلمانوں کی ذلت وخواری کا سبب اس سائنس اور ٹیکنالوجی سے چھٹکارا پالینا تھا، جو عہد وسطیٰ میں انہوں نے حاصل کی تھی اور جس کی بنا پر وہ ساری دنیامیں اپنا وقار اور معاشی برتری حاصل کئے ہوئے تھے۔ دین اور دنیا ساتھ لے کر چلنا ہی مسلمانوں کا قومی، ملی اور مذہبی فریضہ ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی سے دوری عالم اسلام کی بڑی محرومی ہے۔

علمی نشاۃ ثانیہ کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے تعلیمی نظام پر غور کرنا ہوگا۔ اس وقت ہمارے ہاں دو قسم کے تعلیمی نظام موجود ہیں۔ نظام ہائے تعلیم کی ایک قسم وہ ہے جسے ہم عصری تعلیم کے ادارے کہتے ہیں۔ یہاں سائنسی و سماجی علوم کی تعلیم و ترویج کی جاتی ہے اور یہ نظام معاشرے کا وہ طبقہ پیدا کرتا ہے جسے عرف میں دنیا دار طبقہ کہا جاتا ہے۔عصری اداروں کے فاضل طلباء کے ایمان و عقائد کے تزلزل کا حال کسی سے عیاں نہیں ۔بے خدا علوم سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ بے خدا عالم پیدا کریں؟ یہ نظام سیکولر ہے اور اسی نظریے کو افراد کے ذہن میں راسخ کرتا ہے۔ دوسرا نظام مدارس کا ہے جہاں دینی علوم پڑھائے جاتے ہیں اور مذہبی علماء بنائے جاتے ہیں۔یہ طلباء اپنی زندگی کے آٹھ سال علوم دین پڑھتے ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ فراغت کے بعد جب وہ عملی دنیا میں اترتے ہیں تو انھیں دنیا کا کچھ حال معلوم نہیں ہوتا۔ وہ تمام سماجی پیمانے جو طلباء مدرسے میں سیکھ کر نکلتے ہیں ، اس بدلے ہوئے معاشرے میں قابل اعتنا نہیں سمجھی جاتیں مگر وہ انھی پیمانوں سے سماج کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ ایک ایسے ماحول میں پڑھتے ہیں، اور ایسی متغیر اقدار و روایات کے علم بردار بنتے ہیں جو عرصہ ہوا کہ ہمارے اصل معاشرے سے غایب ہوچکی ہیں۔

یہ قصہ دراصل اس تعلیمی روش کا حاصل ہے جو دین و دنیا کی تفریق پر مبنی ہے اور بحیثیت مجموعی اس وقت ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ہمیں سب سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ کیا ہم فی الواقع معاشرے کو مولوی اور مسٹر کے طبقے میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں؟آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی درسگاہیں جو آج جدید علوم و فنون کی آماج گاہیں بن چکی ہیں، ماضی میں علومِ شریعہ کی ہی خاطر بنائی گئی تھیں مگر انھوں نے زمانے کے ضروریات کے مطابق اپنے علم کا سفر کیا اور ا ن کے نظامِ تعلیم کا دامن ہر گزرتے روز کے ساتھ وسیع تر ہوتا گیا۔ خود ہمارے اسلاف کا تیار کردہ نصاب بھی دیکھا جائے تو اپنے زمانے کے اعتبار سے بلند ترین علمی سطح پر دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام اس طرح کے ارتقائی عمل سے یکسر خالی ہے۔ہمیں سب سے پہلے دین و دنیا کی دوئیت کو اکھاڑ کر ایک ایسا نظامِ تعلیم متعارف کروانا ہوگا جہاں ایک طالب علم کو ابتدائی طور پر ایسی تعلیم فراہم کی جائے جس میں نہ صرف اس کے لیے ایمان و عقائد کے علاوہ مذہبی و قومی زبان کی مستحکم بنیادیں استوار ہوں، بلکہ اس کے بعد اسے وسعت حاصل ہو کہ وہ علومِ عصریہ یا علومِ دینیہ میں سے کسی ایک شعبے میں مہارت تامہ حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیمی شعبے کا انتخاب کرے۔اس ماڈل کا مقصد تعلیم کو بے سمتی میں مبتلاء کرنا نہیں بلکہ طالبانِ علم کے لیے دین و دنیا میں سرفرازی کے راہیں کھولنا اور ہمارے تعلیمی نظام کی دوئیت کو ختم کرنا ہے۔ دینی مدارس کا وہ نظام جو درسِ نظامی کا نقیب ہے، اسے اسی مرحلے کے بعد ہونا چاہیے جس سے علومِ دینیہ کے وہ ماہرین پیدا ہوں جو قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد اور دینی رہنمائی کے فرائض انجام دیں۔اس اعلیٰ تعلیمی مرحلے سے گزرنے کے بعد فاضل کو امامت و خطابت کے بجائے تعلیم و تربیت اور تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک دینی مدارس کے نصاب کا تعلق ہے تو اس کے نصاب میں ہر روز نئی پیوندکاری کے بجائے اس کے اہداف و مقاصد کا از سرِ نو جائرہ لیا جائے اور جدید حالات کے تناظر میں اسے مرتب کیا جائے۔اس وقت ہم جن اہداف و مقاصد کو لے کر چل رہےہیں وہ کم از کم ایک صدی پہلے متعین کیے گئے تھے، یہ کیسے ممکن ہے کہ سو سال گزرنے کے بعد بھی ہمارے ہاں دینی تعلیم کے اہداف و مقاصد بالکل یکساں ہیں؟لہٰذا سب سے پہلے مدارس کے لیے اہداف و مقاصد کو از سر نو متعین کیا جائے اور اس کی روشنی میں نصاب اور اس سسٹم پر مکمل نظرِ ثانی کی جائے۔ اس حوالے سے ہمارے ذہن میں چند اہداف و مقاصد یہ ہیں:

• ہماری علمی و فکری حیات سے غیر اسلامی عناصر کو خارج کرنا

• علومِ جدیدہ بالخصوص سماجی علوم کو اسلامی سانچے میں از سر نو مرتب کرنا

• سماج کے مختلف طبقات کے لیے نئی لیڈر شپ تیار کرنا۔

• اختلاف کو ایک مثبت قدر کے طور پر متعارف کروانا

• مناظرانہ فضا کے بجائے علمی اور سنجیدہ اسلوبِ تحقیق اور دعوتی منہج کو فروغ دینا۔

علوم دینیہ کے طلباء کی ذہنی تربیت اور ایک نئے علمی نشاۃِ ثانیہ کے لیے ضروری ہے کہ ہم مذکورہ نظامِ تعلیم میں تین کام لازماً کریں۔

o سب سے پہلے ان کے اذہان میں غیر متعصبانہ انداز میں دین کے بنیادی حقائق راسخ کیے جائے جو ہر قسم فقہی و فلسفیانہ موشگافیوں اور اضافی حاشیوں سے خالی ہوں۔

o وہ معاملات جن پر قرآن و سنت میں نص وارد نہیں، طلباء کو موقع دیا جائے کہ وہ ان معاملات پر مختلف ممکنہ تعبیرات و تشریح پیش کریں ۔ یہاں اس مرحلے میں انھیں مکمل آزادی ہونی چاہیے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنا علمی نظریاتی ماڈل پیش کریں۔

o تیسرا کام ان تعبیرات پر مزید تحقیق و تنقید کا ہو جو اسلام اصولوں سے مطابقت رکھتے ہوں انھیں مستحکم بنیادوں پر تحقیقی انداز میں استوار کیا جائے۔

متبادل علمی پیراڈائم

اس ضمن میں سب سے پہلا کام علوم اور مطالعہ و تجزیہ کو ایک بنیاد فراہم کرنے کا ہے۔ ہمارے مسلم دانشور؛ بالخصوص وہ افراد جو فلسفۂ جدیدہ سے اچھی واقفیت رکھتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ جدید دور کے علمی رجحان اور جوہر (Episteme) کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کی روشنی میں مسلم ذہن کے لیے ایک جدید علمی پیراڈائم تیار کریں جو مسلمانوں کے علمی نشاۃِ ثانیہ کی بنیاد بن سکے ۔اس علمی پیراڈائم کا بنیادی خاکہ یہ ہوسکتا ہے:

• قرآن سے استمداد

• علوم کی کلیت

• مابعدالطبیعات سے عدمِ تعصب

• اصطلاحات کا نیا ڈھانچہ

• ناگزیر لچک

یہ کام اس قدر ضروری اور اہمیت کا حامل ہے کہ اگر یہ کام خدا کے ہاں مقبول ہوجائے تو کوئی بعید نہیں کہ نصف صدی کے اندر اندر مسلمان علم و ہنر کے میدان میں ساری دنیا کی قیادت کریں گے۔

سماجی علوم کی تشکیلِ نو

قرونِ وسطیٰ میں ہونے والے مذہب اور سائنس کے تنازع نے مغرب کو علمی سطح پر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ خدا، روح اور حیات بعد الموت کو اپنے مادی سفر میں کہیں زیرِبحث نہیں لائیں گے ۔ بظاہر یہ محض علمی اعراض ہے لیکن اس اصول کا نتیجہ لامحالہ یہی نکلا کہ غیرشعوری طور پر ایک مادہ پرستانہ علمی ڈسکورس منصۂ شہود پر آیا جس میں مذہبی مقدمات رفتہ رفتہ بالکل خارج ہوگئے۔ ہم مسلمان چونکہ علمی بالادستی کو قبول کرچکے ہیں اور اس وقت ہماری علمی قابلیت اس سطح پر نہیں پہنچ پائی ہے جہاں ہم کبھی ہوا کرتے تھے، اس لیے ہم ان علوم میں مغرب کے ہی ممنونِ کرم ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے ہی سماج، اپنی ہی تہذیب اور اپنی ہی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے ان فرنگیوں کی جانب سر جھکانے پر مجبور ہیں جن کی غلامی کے طعنے ہم دن رات دیتے نہین تھکتے۔ علمی اعتبار سے یہ بات اپنی جگہ قابل ملامت ہے کہ اپنے ہی سرمائے کی تفہیم میں ہم غیروں کی خوشہ چینی کے محتاج ہیں، لیکن اس سے بڑھ کر بھی باعث تشویش یہ ہے کہ ہم وہاں سے درآمد شدہ ہر ایک نظریے پر آمنا صدقنا آسمانی وحی کی طرح ایمان لے آتے ہیں۔ ہم اپنا مذہب، اپنی ثقافت، اپنی تاریخ اور اپنا معاشرہ مغرب کے تشکیل کردہ اس پیراڈائم میں رکھ کر دیکھتے ہیں جس کے حاصل نتائج (outcome) صرف انسان پرستی کے گرد گھومتے ہیں اور اس نظامِ فکر میں ہمارے خدا اور اس کی پسندیدہ اقدار کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔

موجودہ جدید ذہن کو دین سے برگشتہ کرنے اور مادہ پرستی کی جڑیں راسخ ہونے کی وجہ وہ کتب نہیں جو مذہب یا وجودِ خداوندی کے خلاف لکھی گئی، بلکہ سائنس و فلسفہ اور مختلف فنون پر وہ کتب ہیں جن کی بنیادیں مادیت پر استوار ہیں۔ یہ کتب بظاہر مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتی، لیکن ان میں بیان کردہ نظریات بالواسطہ مذہبی مقدمات کو رد کرکے جدید ذہن کو اسی الحادی فکر پر ہی منتج کرتے ہی جو مغربی تہذیب کا خاصہ ہے۔ جب ایک طالب علم یہ پڑھتا ہے کہ جدید سائنس کے مطابق مذہب کا آغاز خوف سے ہوا ہے تو لامحالہ اس کا ذہن مذہب سے متعلق کسی بھی آسمانی عنصر کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص نفسیات کے باب میں یہ پڑھتا ہے کہ وحی کا دعویٰ کرنے والا شخص دراصل اپنے لاشعور سے ہی کا احکامات حاصل کرتا ہے، تو اس کا ایمان رسالت پر متزلزل ہوجاتا ہے۔ اس طرح جدید علوم ایک ایسے انداز میں ایمان پر حملہ آور ہوتے ہیں جس کا اندازہ خود متاثر کو بھی نہیں ہوتا۔ اس وقت مغرب میں جس قدر الحاد پنپ رہا ہے اس کی بنیادی یہی سماجی علوم ہی فراہم کرتے ہیں اور بدقسمتی سے ہم بھی سماجی علوم میں انھی کے خوشہ چین ہونے کی وجہ سے ان نظریات کو بعینہ نقل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان مادیت زدہ افکار سے کسی خیر کی امید کرنا بے سود ہے۔ نتیجتاً ہمارے ہاں جدید اداروں سے تعلیم یافتہ افراد بھی مغربی تعلیم کی بدولت اب مذہب کے بارے میں تذبذب کا شکار ہوئے جارہے ہیں۔ اس صورت حال کا واحد حل یہی ہے کہ ہمارے اہل علم ان جدید علوم میں مہارت حاصل کریں اور ترجیحی بنیادیوں پر ان سماجی علوم کی تشکیل ِ نو کا کام کریں اور ان علوم کو اسلامی پیراڈائم میں دلائل کے ساتھ پیش کریں۔ نفسیات، بشریات اور معاشیات اس ضمن میں خصوصی توجہ کا محتاج ہے۔

علومِ اسلامی کی تشکیل نو

علومِ اسلامی کی تشکیل سے مراد دین کی نئی تعبیر و تشریح نہیں بلکہ انھی سابقہ روایات کو پرزنٹیشن کے ساتھ پیش کرنا ہے۔غیر حقیقی، عملی زندگی سے غیر متعلق اور لایعنی مباحث کو نکال کر تمام علوم کو ریفائن کرنا ہوگا۔ اس میں نئے خیالات کو عزت و احترام کے ساتھ وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ استحقاق رکھتے ہیں۔ہمارے منابعاتِ اسلام کی اہم خاصیت یہ ہے کہ یہ ساری نسلِ انسانیت کے لیے ایک دائمی دستور ِ حیات ہے۔ ایک ایسا دستورِ حیات جس میں ہر زمانے کے مطابق مسائل کا حل موجود ہے۔ ہر دور کی اعلیٰ ترین علمی سطح کے مطابق اس کی توضیح و تشریح کی جاسکتی ہے۔ یہی کارنامہ دراصل ہمارے اسلاف نے بھی انجام دیا کہ انھوں نے اپنے زمان و مکان کے اعتبار سے اسلامی قوانین کی تدوین کی۔ ہم چونکہ اسلاف کی تقلید کے مدعی ہیں اور ان کے نقوش کو اپنے لیے رہنمائی سمجھتے ہیں تو اب ہمیں اس درخت سے سایہ تلاش نہیں کرنا چاہیے جس کی شاخیں اب سوکھ رہی ہیں، جو صدیوں سے پانی کی بوند کو ترس رہا ہو۔ اسلاف کی تقلید کی حقیقی روح اور ہمارے موجودہ مسائل اسی کے متقاضی ہیں کہ ہم بھی اپنے بزرگوں کی تشریحات اور اپنے زمانے کی اعلیٰ ترین علمی سطح سامنے رکھتے ہوئے قانونِ اسلامی کی تدوین کریں جو جدید سماجی زندگی کے ہم آہنگ اور ہمارے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں۔

اصلاح اور تزکیہ نفس کے لیے

تزکیہ نفس دین کی اصل روح اور مقصدِ حیات ہے ۔قرآن مجید کے مطابق انسان کے لیے کامیابی کا معیار یہی ہے کہ اپنے اپنے نفس کا تزکیہ کرکے اپنے رب کے ہاں حاضر ہو۔تزکیہ نفس کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہمارے ہاں سلسلہ تصوف بھی رائج ہے جس کی دینی حیثیت سے قطع نظر یہ کہنا بجا ہوگا کہ نفسیاتی اعتبار سے یہ طریقہ تزکیہ نفس کے لیے انتہائی کارگر رہا ہے۔ تاہم اس میں وقت کے ساتھ ساتھ کچھ خرابیاں بھی در آئی ہیں، نیز دورِ حاضر کے جدید ذہن کو بدلنے کے لیے بھی اس طریقِ اصلاح میں کچھ تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔

اس وقت ہمارے ہاں اصلاح اور تزکیہ نفس کے لیے جو روایتی طریقہ رائج ہے، اس میں کچھ جدت لانا ضروری ہے۔ آج کا جدید ذہن اخلاقی قدر اور رذائل کے بارے میں انتہائی تذبذب کا شکار ہے، اسے یہ تو معلوم ہے کہ غیبت زنا سے بھی بدتر ہے ، مگر یہ نہیں معلوم کہ فی الحقیقت غیبت کس چیز کو کہتے ہیں؟ وہ بہت ایمانداری کے ساتھ یہ مانتا ہے کہ تکبر ایک بہت بڑی برائی ہے لیکن اسے معلوم نہیں ہوتا کہ تکبر کی کیا وجوہات اور علامات ہیں۔ وہ اخلاقیات کے بارے میں وعیدیں اور بشارتیں تو سن لیتا ہے لیکن اسے عملی زندگی میں اخلاقی اصولوں کو پریکٹس کرنے کے لیے کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی۔آج جدید نفسیات نے بہت سے ذہنی رجحانات ہمارے سامنے واضح کردیے ہیں اور اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے ایک مکمل سسٹم بنا دیا ہے۔ ہم جدید نفسیات کےتمام تر اصولوں سے گو اتفاق نہیں کرسکتے لیکن اس میں بہت کچھ سامان ہمارے استعمال کے لیے موجود ہے جن سے ہمیں اصلاح او ر تزکیہ نفس کے عمل میں فائدہ اٹھانا چاہیے۔

اس بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اکثر رذائل کو روحانی امراض سے تعبیر کیا ہے۔ جس طرح ہم ایک مرض کی وجوہات کا تعین کرتے ہیں، اس کی تشخیص کرتے ہیں اور پھر اس کے علاج کے لیے حکمت عملی تیار کرتے ہیں، اس طرح تزکیہ نفس کے میدان میں بھی یہ طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔روایتی طر ز کے ساتھ جدید Methodology کو بھی بھرپور زیر استعمال لایا جائے جس میں روحانی ا مراض کی تشخیص اور علاج ممکن ہو۔ اس کے لیے بہترین ماڈل ہمارے پاس علامہ غزالی اور امام رازی کی نفسیاتِ روحانی اور طب روحانی کا ہے ۔ان دونوں مفکرین نے اپنے دور کے اعتبار سے انتہائی اعلیٰ سطح کا کام پیش کیا ہے۔موجودہ دور کے لحاظ سے اگرچہ ان کے کام پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے، لیکن اسے بطور خطوط پیش ِنظر رکھا جانا چاہیے۔سابقہ دور میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے عملی اعتبار سے ان دونوں مفکرین کے کام سے بھرپور استفادہ کیا ہے، چنانچہ اس کام میں ان کے اصلاحی خطبات اور موعظات کی اہمیت کلیدی ہے۔ جبکہ حالیہ دور میں ہی ڈاکٹر اظہر علی رضوی کی کتاب Muslim Tradition in Psychotherapy قابل مطالعہ ہیں جس میں اس تصور کو ٹھوس علمی بنیادیں فراہم کردی ہیں۔ ضروری ہے کہ اس کام کو نہ صرف علمی بنیادوں پر مزید آگے بڑھایا جائے بلکہ اسے عملی طور پر لاگو کیا جائے۔