Home / سائیکولوجی اور پیرا سائیکولوجی / Sleep Paralysis: سلیپ پیرالیسیز

Sleep Paralysis: سلیپ پیرالیسیز

 کوئی بھی معاشرہ کوئی بھی مذہب اور کوئی بھی جنس اس بیماری سے مبرا نہیں۔ سلیپ پیرالیسیز ایسا ڈس آڈر ہے جو وبا کی طرح سننے سے پھیلتا ہے۔ اور اس کا شکار وہی لوگ ہوتے ہیں جو اعصابی طور پر کمزور ہوتے ہیں یا پھر اس ٹاپک پر بہت زیادہ سوچ ویچار کرتے ہیں۔ جن شیطانی طاقتوں پر بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کو ایسا احساس پیدا ہوتا ہے کہ جیسے آپ اکیلے نہیں ۔

جب یہ کیفیات بہت سوار ہوجائیں تو یہ پرچھائیاں باقاعدہ نظر آتی ہیں اور جہاں آنکھ لگی اسی وقت یہ پرچھائیاں سینے پر سوار ہوکر گلا دبانے لگتی ہے۔ اور وہ ویکٹم / پیشنٹ / انسان کی بھلے آنکھ کھل جائے لیکن وہ ہل جل نہیں پاتا نہ ہی منہ سے کوئی بھی لفظ نکال پاتا ہے حتیٰ کہ زبان تک نہیں ہلا پاتا۔ پورا جسم فالج زدہ ہوجاتا ہے اور تب یہ یقین اور پختہ ہوجاتا ہے کہ یہ جن / شیطان کی کارستانی ہے اور یہ ہمارا دماغ پڑھ رہا ہے۔ کیونکہ ویکٹم اپنا جو بھی انگ ہلانے کی کوشش کرتا ہے وہ فالج کے جمود کی وجہ سے ہل نہیں پاتی۔ اور تب یہ یقین اور پختہ ہوجاتا ہے کہ یہ جن / شیطان ہمارا دماغ پڑھ رہا ہے۔

 اسے وقت اگر کوئی موجود شخص اس سوئے ہوئے ویکٹم / پیشینٹ کی طرف متوجہ ہوکر اس کو اٹھادے یا کسی وجہ سے اس کی آنکھ کھل جائے جیسے شور , الارم وغیرہ سے تو وہ سایہ اپنے جسمانی وزن (بوجہ سلیپ پیرالیسیز) کے ساتھ سوار تھا ایک دم غائب ہوجاتا ہے اور جسم ہلکا ہوجاتا ہے۔ اور ویکٹم جاگ جاتا ہے۔ اور جاگنے پر اس کو شدید پیاس اور بسااوقات کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔

 یہ سایہ جو ہمارے سب کونشیس سے نکل کر کونشیس ورلڈ میں داخل ہوگیا ہوتا ہے اس سے صرف خوداعتمادی کے ساتھ ہی لڑاجاسکتا ہے۔ اور چونکہ انسان خود کو اس پرچھائی کے سامنے بےبس پاتا ہے اور اس کو طاقتور۔ اس لئے اس کو ایسے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جو اس تخیلاتی ہیولے / پرچھائی / سائے / جن / شیطان سے طاقتور ہو۔ اور اپنے اپنے عقیدے کے مطابق جو بھی ” بڑا ” ہے اس وقت اس کو پکارا جائے پوری شدت سے اور جن آیات / اشلوک / ورسیز / گرنتھ پر بھروسہ ہے وہ پوری قوت و اعتقاد کے ساتھ پڑھے تو یہ پرچھائی ہمیشہ کے لئے جان چھوڑ دیتی ہیں۔

 ورنہ اس کے خلاف اگر نہ لڑا جائے اور کمزور پڑجایا جائے تو موت یقینی ہے۔اور ایسے کئی کیسیز ہوئے ہیں کہ سلیپ پیرالیسیز سے موت واقع ہوئی ہو۔

مورل : یہ ایک بہت عام بیماری ہے جو کہ صرف کمزور عقیدے والوں کو ہی پکڑتی ہے۔ جو لوگ حد سے زیادہ جن جنات شیاطین راکھشیس بھوت پریت اسپریٹ آتما کالے جادو وغیرہ پر اندھا یقین رکھتے ہیں وہ اس کا آسانی سے شکار ہوجاتے ہیں۔ بھلے کوئی جن جنات سے ڈرتا ہو یا نہیں لیکن اگر وہ ان سے بچاؤ کے لئے ہر وقت وظائف کرتا ہے یا اس سے بچاؤ کا بہت اہتمام کرتا ہے تو جان لے کہ وہ کمزور اعصاب کا شکار ہے۔

About سعدیہ کامران

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *